سیلاب صرف پانی کا ریلا نہیں ہوتا، یہ انسانیت کے لیے ایک کڑی آزمائش اور ایک تلخ حقیقت بھی ہے۔ جب دریاؤں کے کنارے ٹوٹتے ہیں، جب بستیوں پر پانی چڑھ آتا ہے، تو صرف گھر نہیں ڈوبتے بلکہ خواب، مستقبل اور امیدیں بھی بہہ جاتی ہیں۔
پاکستان میں مون سون کے موسم کے دوران بارشیں جب شدت اختیار کر لیتی ہیں تو ندی نالے اور دریا اپنے راستے سے باہر آ جاتے ہیں۔ گاؤں کے گاؤں زیرِ آب آ جاتے ہیں، کھیت برباد ہو جاتے ہیں اور لاکھوں لوگ بے گھر ہو جاتے ہیں۔ یہ منظر ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ انسان اپنی ترقی کی دوڑ میں فطرت کو بھول کر کب تک نقصان سہتا رہے گا؟
سیلاب کے بعد صرف تباہی نہیں رہتی بلکہ ایک پیغام بھی ہوتا ہے۔ یہ پیغام ہے کہ ہمیں اجتماعی طور پر قدرتی آفات کے مقابلے کے لیے تیار ہونا ہوگا۔ بہتر انفراسٹرکچر، مضبوط ڈیم، درست منصوبہ بندی اور عوامی شعور کے بغیر یہ سلسلہ کبھی نہیں رکے گا۔
سیلاب ایک زخم ہے لیکن اگر ہم چاہیں تو یہی زخم ہمارے لیے ایک سبق بھی بن سکتا ہے۔
